isapghol kay faiday | Health tips in urdu
We are against Doctors. They are thieves. This website is totally to help poor people do their treatment and family through natural herbs. Please share our links on facebook


اسپغول کے فوائد و کمالات

June 29, 2012

اسپغول کا یہ نام فارسی کے دو لفظوں سے مل کر بنا ہے۔ ایک لفظ ’’اسپ‘‘ یعنی گھوڑا اور دوسرا ’’غول‘‘ یعنی کان۔ گویا گھوڑے کا کان یعنی اس medicine کی شکل گھوڑے کے کان سے ملتی ہے۔ فارسی کا یہ نام اس قدر مشہور ہوا کہ برصغیر میں بھی سب اسے اسپغول کے نام سے پکارنے لگے۔
اس کا پودا ایک گز بلند ہوتا ہے اور ٹہنیاں باریک ہوتی ہیں۔ سرخ رنگ اور سفیدی مائل چھوٹے بیج (seeds)ہوتے ہیں جسے اسپغول کہتے ہیں۔ ذائقہ میں پھیکا ہوتا ہے اور منہ میں ڈالنے پر لعاب پیدا کرتا ہے۔ تاریخ کیbookوں میں مذکور ہے کہ اسپغول کا اصل وطن ایران ہے۔ اگرچہ درست ہو مگر دنیا میں اکثر جگہوں پر یہ خودرو پیدا ہوتا ہے۔ عرب میں بھی اس کو پایا گیا ہے۔
اسپغول کے فوائد و خواص
doctorوں نے اسے use کیا اور اس کے عام فوائد کی تصدیق کی اور لیبارٹری میں اس کا کیمیائی تجزیہ کیا گیا اس سے جو بات سامنے آئی یعنی اسپغول کے بیجوں میں فیٹس یعنی حشمی روغن پایا گیا۔ زلالی مادہ اور فالودہ نما جیلی جیسا لعاب ہے۔ دراصل یہ لعاب ہی وہ مادہ ہے جو انسانی body میں بیماری کے خلاف اپنا اثر دکھاتا ہے۔
اس لعاب کی ایک حیرت انگیز مثال یہ ہے کہ انسانی body میں چوبیس گھنٹے تیزاب یعنی ہائڈروکلورک ایسڈ جیسے تیز اثر تیزاب اور لیلیے کے تیزاب میں رہنے کے باوجود اسپغول کے لعاب کا برائے نام حصہ ہضم(digest) ہوتا ہے اور تمام ہضم(digest) کے عمل کے درجات کو طے کرتا ہوا بڑی آنت میں موجود جراثیم پر اثرانداز ہوتا ہے اور ان کو کولونائزیشن کو منجمد کردیتا ہے ان تیزابوں کی اثرانگیزی اس پر کچھ اثرنہیں کرتی اور پھر آگے جاکر یہ لعاب یعنی جیلی ان جرثوموں مثلاً مبسی لس شیگا‘ سیسی لس فلیکس نر‘ سینسی لس کولائی اور سیسی کرکالر ابھی اس پر اثرانداز نہیں ہوسکتے۔مشاہدے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسپغول کا لعاب چھوٹی آنت کی کیمیائی خمیرات کا زیادہ اثر نہیں لیتا اور نہ معدے کے کرشمات کا اثر لیتا ہے اور نہ بڑی آنت میں موجود جراثیم اس کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔یہ لعاب آنتوں کے زخموں اور خراشوں پر بلغمی تہہ چڑھا دیتا ہے اور بیکٹیریا کے نشوونما کو احسن طریقہ سے روک دیتا ہے اور جو زہریلے مواد جو ان بیکٹیریا کی موجودگی سے پیدا ہوتے ہیں ان کو جذب کرلیتا ہے۔ اسپغول کے بارے میں جو اطباء رائے رکھتے ہیں ان کے مطابق یہ دوسرے درجے کا سرد ہے اور بعض کے نزدیک تیسرے درجے کا سرد ہے۔
اسپغول کا use
اسپغول کو عام طور پر پیچش کے امراض میں زیادہ use کروایا جاتا ہے اور یہ پیچش بیکٹیریا سے ہوں یا وائرس دونوں میں اس کا use واجب قرار دیا گیا ہے۔ اسپغول کا لعاب آنتوں کو خراشوں سے محروم رکھتا ہے اور ان خراشوں پر لعابی تہہ چڑھا دیتا ہے جس سے فضلہ کا زہریلا اثر ان خراشوں اور زخموں پر نہیں ہوتا۔اسپغول میں دو طرح کے معجزاتی کرشمے ہیں اگر patient کو قبض ya constipation ہو تو پاخانہ کھولتا ہے اور اگر پیچش ہو تو اس کا تدارک کرتا ہے یعنی دونوں صورتوں میں مستعمل ہے۔
یادرک(Zingiber or ginger)ھنے کی بات یہ ہے کہ اسپغول تخم ہے اور اس کا چھلکا جس کو مخصوص طرح سے الگ کیا جاتا ہے اس کو بھوسی کہا جاتا ہے۔ اسپغول میں قبض ya constipation پیدا کرنے کی یعنی میکانکی رکاوٹ بننے کی قدرتی خاصیت موجود ہوتی ہے جبکہ اس کی بھوسی میں یہ میکانکی رکاوٹ بننے کی صلاحیت نہیں ہوتی اس لیے اسپغول کے بیج (seeds)کو وہاں use کرنا ضروری ہے جہاں رکاوٹ پیدا کی جائے اور بھوسی کو اکثر اطباء وہاں use کرتے ہیں جہاں قبض ya constipation پیدا کرنا مقصود ہو۔
گرمی کے بخار میں تسکین رہتی ہے۔ سینہ اور زبان‘ حلق کے کھرکھرے پن میں بھی benefit پہنچاتا ہے۔ سرکہ اور گل روغن کو باہم ملا کر اور اسپغول کے لعاب کے ساتھ use سرpain کیلئے مفید(beneficial) ہے۔ سخت سوزش اور جلن والے دانوں‘ کن پیڑے اور گھٹنوں کی pain میں تیل میں اسپغول کو پکا کر باندھنے سے افاقہ ہوتا ہے۔ سخت اور خون کی آمیزش والے پیچش میں تخم ریحان‘ بیل گری‘ تخم بالنگو‘ اسپغول کو برابر weight لے کر use کرنا فوری تدارک کا باعث ہے۔ پیٹ کی عمومی امراض اور تبخیر معدہ میں اس کی صبح و شام خوراک لینا benefitial ہے۔ رات کو 2 tea spoon اسپغول ایک کپ پانی(water) میں بھگو دیں اور صبح تھوڑی سی چینی ملا کر کھائیں اس معدہ کی حدت یعنی گرم(hot)ی کم ہوجاتی ہے۔

Post Your Comments Here